نئی دہلی،14؍جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )پیڈ نیوز معاملے میں دہلی ہائی کورٹ سے مدھیہ پردیش کے وزیر نروتم مشرا کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو نااہلی کے فیصلے پر روک لگانے والی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔اب مشرا 17؍جولائی کو ہونے والی صدارتی انتخابات کی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے پائیں گے۔غور طلب ہے کہ جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ نے نروتم کی درخواست پر فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ہائی کورٹ کو طے کرنا تھا کہ مشرا 17؍جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ میں حصہ لے سکتے ہیں یا نہیں؟جمعرات کو سماعت کے دوران نروتم کی جانب سے کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے یہ فیصلہ کرنے میں تاخیر کی ہے۔وہیں شکایت کنندہ فریق کی طرف سے کہا گیا کہ یہ کوئی بنیاد نہیں ہے،یہ نہیں کہا جاسکتا کہ تصفیے میں تاخیر ہوئی اور معاملے کو بند کر دیا جائے۔بدھ کو مدھیہ پردیش کے وزیر نروتم مشرا کی نااہلی پر سپریم کورٹ نے روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔سپریم کورٹ نے معاملے کو مدھیہ پردیش سے دہلی ہائی کورٹ ٹرانسفر کر دیا تھا۔اس کے ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ 17؍جولائی کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی ووٹنگ سے پہلے سماعت مکمل کر کے تصفیے کرے ۔غور طلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے پایا تھا کہ انہوں نے 2008کے اسمبلی انتخابات میں پیڈ نیوز پر خرچ کی گئی رقم کو اپنے انتخابی خرچ میں نہیں دکھایا تھا۔کانگریس کے سابق ممبر اسمبلی راجندر بھارتی کی 2009میں کی گئی شکایت پر یہ فیصلہ آیاہے ۔انہوں نے نروتم مشرا پر 2008کے انتخابات کے دوران کرپٹ پریکٹس اور پیڈ نیوز کا الزام لگایا تھا۔الیکشن کمیشن نے جنوری 2013میں نوٹس جاری کر کے نروتم مشرا سے جواب مانگا تھا۔انہوں نے ہائی کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا تھا، لیکن انہیں وہاں سے بھی راحت نہیں ملی تھی۔گزشتہ سال نروتم سے دہلی میں الیکشن کمیشن نے سوال وجواب کیا تھا۔غور طلب ہے کہ فی الحال ان کے پاس آبی وسائل، تعلقات عامہ اور پارلیمانی امور کی وزارت کا ذمہ ہے،وہ دتیا سے جیت کر آتے ہیں۔